نئی دہلی، 2 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )راجیہ سبھا میں آج ملک کے مختلف حصوں میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری اور ان کو قتل کرنے کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے اس طرح کے معاملات کو روکنے کے لیے مناسب قدم اٹھانے کامطالبہ کیاگیا۔وقفہ صفر میں نامزدرکن سنبھا جی راجے شیواجی نے قومی دارالحکومت اور مہاراشٹر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری اور ان کے بہیمانہ قتل کے بڑھتے واقعات کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات میں تو نابالغ لڑکیوں کو بھی آبروریزی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نربھیا معاملے میں پورے ملک نے ایسے واقعات کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومتوں کوفوری طور پر مناسب اقدامات کرنے چاہئیں ۔ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے نے وقفہ صفر میں مٹی کے تیل کی قیمت میں باربار اضافہ کئے جانے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے غریب طبقے کے لوگوں پرمنفی اثرپڑرہاہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت منصوبہ بند طریقے سے مٹی کے تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔حالانکہ ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے رائے سے کہا کہ انہیں یہ مسئلہ اٹھانے سے پہلے ایوان میں ضروری نوٹس دینا چاہیے ۔ترنمول کے ہی وویک گپتا نے وقفہ صفر میں ٹی بورڈ ہیڈکوارٹر کو کولکاتہ سے گوہاٹی منتقل کئے جانے کی تیاریوں کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ اس ہیڈکوارٹر کے ملازمین کو دھیرے د ھیرے ہٹایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اس ہیڈ کوارٹر کو گوہاٹی لے جانے کی تیاری کر رہی ہے، مرکز کا یہ قدم مغربی بنگال کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ٹی بورڈ کے ہیڈ کوارٹر کو کولکاتہ سے کہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔مغربی بنگال کی مختلف پارٹیوں کے اراکین نے بھی اس مسئلے سے خود کو وابستہ کیا۔وقفہ صفر میں کانگریس کے شانتا رام نائیک نے اسپیکر سے جاننا چاہا کہ انہوں نے بی جے پی لیڈرسبرامنیم سوامی کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا ایک نوٹس دیا تھا، اس کا کیا ہوا؟اس پر ڈپٹی چیئرمین کورین نے جواب دیا کہ ان کے نوٹس پر چیئرمین غور کر رہے ہیں، چیئرمین اس معاملے میں جو بھی فیصلہ کریں گے، ان کو اس سے آگاہ کیاجائے گا۔
کانگریس کے شاد ی لا ل بترا نے وقفہ صفر میں ایک نجی کمپنی کی طرف سے 6 کروڑ سرمایہ کاروں کے ساتھ دھوکہ دہی کیے جانے کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ سیبی اور سپریم کورٹ اس کمپنی کی املاک کو ضبط کرنے کا حکم دے چکے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس کمپنی کے خلاف مناسب کارروائی کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کے پیسے واپس کرانے چاہیے ۔کانگریس کے ہی آنند بھاسکر راپولو نے آندھرا پردیش کے لیے علیحدہ ہائی کورٹ بنانے کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ 2014میں ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کا اپنا الگ ہائی کورٹ ابھی تک نہیں بن پایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف عام لوگوں کو پریشانیاں ہو رہی ہیں، بلکہ وکلا ء بھی تحریک چلا رہے ہیں۔وقفہ صفر میں کانگریس کے رپن بورا نے آسام میں آئے بھیانک سیلاب کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست کے 28اضلاع اس سے متاثر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آسام میں سیلاب سے 26لاکھ افراد متاثر ہیں جبکہ 26لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آسام جاکر وہاں سیلاب کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ہوائی دورہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آسام سیلاب سے متاثر ہے، لیکن وزیر داخلہ نے ریاست کے لیے ایک پیسے کی بھی مدد کی اعلان نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکز کو سیلاب راحت اور بچاؤ آپریشن کے لیے آسام کو مدد مہیا کرانی چاہیے ۔